**داستان ایمان فروشوں کی** ایک تاریخی ناول ہے جو پاکستانی مصنف اکرام اللہ خان یوسفزئی۔ یہ ناول صلاح الدین ایوبی کے دور کے واقعات پر مشتمل ہے۔ناول کا مرکزی کردار ایمان فروشوں کا ایک گروہ ہے جو مختلف مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ گروہ صلاح الدین ایوبی کے خلاف سازشیں کرتا ہے اور اسے شکست دینے کی کوشش کرتا ہے۔ناول میں صلاح الدین ایوبی کی شجاعت، حکمت اور ایمان کا بہت خوبصورت انداز میں اظہار کیا گیا ہے۔ ناول میں ایمان فروشوں کی ذلت و رسوائی اور ان کی شکست کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ناول کی زبان سادہ اور سلیس ہے اور اس میں کہانی کا سلسلہ بہت روانی سے چلتا ہے۔ ناول کو پڑھ کر قاری کو صلاح الدین ایوبی کی شخصیت اور ان کی کامیابیوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔**داستان ایمان فروشوں کی** ایک اہم تاریخی ناول ہے جو پاکستانی ادب میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ ناول ہر وہ شخص ضرور پڑھے جو تاریخ اور ادب سے دلچسپی رکھتا ہے۔**داستان ایمان فروشوں کی** کے کچھ اہم کردار یہ ہیں:* **صلاح الدین ایوبی:** ناول کا مرکزی کردار۔ ایک شجاع، مدبر اور متقی مسلمان حکمران۔* **ایمان فروشوں کا گروہ:** مختلف مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ جو صلاح الدین ایوبی کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔* **بلفور:** ایک انگریز جاسوسی جو صلاح الدین ایوبی کے خلاف کام کرتا ہے۔* **ہرٹوپ:** ایک جرمن جاسوسی جو صلاح الدین ایوبی کے خلاف کام کرتا ہے۔* **قیصر:** ایک ترک جاسوسی جو صلاح الدین ایوبی کے خلاف کام کرتا ہے۔**داستان ایمان فروشوں کی** کی کہانی 12ویں صدی کے اوائل میں شروع ہوتی ہے۔ اس وقت، صلاح الدین ایوبی مصر اور شام کا حکمران ہے۔ وہ ایک شجاع اور مدبر حکمران ہے اور اس نے اپنے دور میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ایمان فروشوں کا گروہ صلاح الدین ایوبی کے خلاف سازشیں کرتا ہے۔ یہ گروہ مختلف مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھتا ہے، لیکن ان کا ایک ہی مقصد ہے: صلاح الدین ایوبی کو شکست دینا۔ایمان فروشوں کا گروہ مختلف طریقوں سے صلاح الدین ایوبی کے خلاف کام کرتا ہے۔ وہ اس کی فوج میں فساد ڈالتا ہے، اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرتا ہے اور اس کے خلاف سازشیں کرتا ہے۔آخر کار، صلاح الدین ایوبی ایمان فروشوں کی سازشوں سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ وہ ان سازشوں کا مقابلہ کرتا ہے اور ان کو ناکام بنا دیتا ہے۔**داستان ایمان فروشوں کی** ایک تاریخی ناول ہے، لیکن اس میں کچھ حقیقی واقعات کی بجائے افسانوی عناصر بھی شامل ہیں۔ تاہم، ناول کی بنیادی کہانی تاریخی حقائق پر مبنی ہے۔ناول میں صلاح الدین ایوبی کی شخصیت اور ان کی کامیابیوں کا بہت خوبصورت انداز میں اظہار کیا گیا ہے۔ ناول میں ایمان فروشوں کی ذلت و رسوائی اور ان کی شکست کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔**داستان ایمان فروشوں کی** ایک اہم تاریخی ناول ہے جو پاکستانی ادب میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ ناول ہر وہ شخص ضرور پڑھے جو تاریخ اور ادب سے دلچسپی رکھتا ہے۔جی ہاں، **داستان ایمان فروشوں کی** ایک بہت فائدہ مند کتاب ہے۔ یہ کتاب ہمارے لیے بہت سی چیزیں سکھا سکتی ہے۔اس کتاب سے ہمیں صلاح الدین ایوبی کی شجاعت، حکمت اور ایمان کا سبق ملتا ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ایمان فروشی کتنی خطرناک ہے اور اس کا انجام کیسا ہوتا ہے۔
اس کتاب سے ہمیں تاریخ کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہیں۔ یہ کتاب ہمیں 12ویں صدی کے اوائل میں ہونے والے واقعات کے بارے میں جاننے میں مدد کرتی ہے۔مجموعی طور پر، **داستان ایمان فروشوں کی** ایک بہت اچھی کتاب ہے۔ یہ کتاب ہمارے لیے ایک فائدہ مند اور معلوماتی تجربہ ہو سکتی ہے۔یہاں کچھ مخصوص چیزیں ہیں جو ہم **داستان ایمان فروشوں کی** سے سیکھ سکتے ہیں:* ہمیں ہمیشہ اپنے ایمان پر قائم رہنا چاہیے۔* ہمیں ایمان فروشوں سے بچنا چاہیے۔* ہمیں ہمیشہ حق کے لیے لڑنا چاہیے۔اگر آپ تاریخ اور ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں، تو میں آپ کو ضرور **داستان ایمان فروشوں کی** پڑھنے کی تجویز دوں گا۔

🕌🕋 September 7, the day of end of prophethood 🕋 Continued from previous… In the presence of provocative slogans at the station, no sound could be heard, as soon as I saw them, a loud noise of protest slogans arose, in this world, the injured Muslim students were taken off the train, and on the advice of the doctors, they were given first aid. went The government officers present at the station met the students. Saw the box, the top of which iron bars were bent. When the dressing process was finished, the officers said: “Now let the car go ahead, these injured students should be taken down here and treated.” When talking to these injured students, they said: “We will go to Multan in the same condition, we will get treatment at Nishtar Hospital there.” The Deputy Commissioner again said: “Now let the car go forward!” I said to them: “Until the provincial government accepts our demands, the vehicle cannot move forward: (01) … an investigation should be conducted by the judge of the High Court of this tragedy. (02)… All the accused involved in this tragedy including Station Master Qadiani Chenab Nagar and Nishtarabad should be arrested. (03)… The culprits of this tragedy should be severely punished.” The Deputy Commissioner called the Chief Secretary from the Station Master’s room and presented all the demands to him. The Chief Secretary was aware of the minute-by-minute proceedings and accepted all the demands. The Deputy Commissioner has assured me that all three of your demands have been accepted. Press reporters took photos, the injured students were shifted to an air-conditioned coach and the train departed. On the platform itself, I gave time to the pressmen to announce the press conference and future program at Al Khayyam Hotel at 5:00 PM. Coming home, Gojra, Toba Tek Singh, Shurkot, Abdul Hakeem, Makhdoompur, Khanewal and Multan, wherever the train stopped, the International Majlis-e-Takhuz Khatm-e-Nabubt has given a signal to the leaders to demonstrate. Wherever the train passed, there were protests. By calling Maulana Muhammad Sharif Jalandhri in Khatnam Nabubat Office, Multan, Lahore Agha Shorush Kashmiri, And Rawalpindi informed the late Maulana Ghulamullah Khan about the tragedy. Maulana Muhammad Sharif Jalandhri informed Hazrat Maulana Syed Muhammad Yusuf Banuri, who was then the Ameer of the Al-Majlis Tahafuz Khatman Nabubt, and Maulana Khawaja Khan Muhammad Sahib, who was the Naib Ameer at that time. All day Maulana Muhammad Sharif Jalandhri was informing all over the country through the phone and giving his advice to his friends for the movement, the situation was already demanding movement regarding Qadianism, this news was electrifying. A press conference was held in Al Khayyam in the evening. to be continued ……

Leave a comment